پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن ٹربیونل نے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز ناصر جمشید کے کرکٹ کھیلنے پر ایک سال کی پابندی عائد کردی ہے۔

پی سی بی کے مطابق ناصر جمشید پر عدم تعاون کی شق پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان پر اینٹی کرپشن کوڈ کی دو شقوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

  قانونی مشیر تفضل رضوی نے پیر کو کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا  ۔

تفضل رضوی نے کہا کہ اس معاملے میں ناصر جمشید کا کردار بکیز کے سہولت کار کا تھا۔   
فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ناصر جمشید کے وکیل حسن وڑائچ اپنے مؤکل کو بے گناہ قرار دیتے رہے۔
پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں اسپاٹ فکسنگ کے اسکینڈل میں ناصر جمشید کا نام رواں سال تیرہ فروری کو سامنے آیا تھا جس کے بعد برطانوی تحقیقاتی ادارے نے بھی ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔


پی سی بی نے رواں سال اپریل میں ناصر جمشید کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اگست میں ناصر جمشید نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹربیونل نے ناصر جمشید پر فکسنگ آفر بروقت نہ بتانے اور تحقیقات میں عدم تعاون کا الزام لگایا تھا۔

پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا پانے والے ناصر جمشید پانچویں کرکٹر ہیں۔ ان سے پہلے ٹربیونل محمد نواز، محمد عرفان، شرجیل خان اور خالد لطیف کو مختلف نوعیت اور مدت کی سزائیں سناچکا ہے۔